کینسر بلوچستان  بھر میں ایک جان لیوا  اور  تیزی سے بڑھتی ہوئی بیماری  جو کے جسم میں  غیر معمولی سیلس  لا تعداد  سیل ڈویژن کی وجہ سے  ہوتی ہے۔   بلوچستان کا ضلع  خضدار  جہاں کینسر کے مریضوں کی تعداد دن بہ دن  بڑتی جاری ہے جن میں اکثر  بچے  اور  نو جوان سرفرست ھیں ۔   یہاں پھر  علاج کیلئے سہولیات نہ ہونے کی  وجہ سے عوام کو کافی مشکالات کا سامنا کرنا پڑرہا  ہےجو  کہ کافی تشویش کی بات ہے۔   افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ  صرف خضدار بلکہ  پورے بلوچستان میں یہی  صورتحال ہے صحت کے حوالے سے حکومت بلوچستان کا کوئی مثبت اقدام نہیں ہے ۔ پورے بلوچستان  میں ایک بھی   ایسا ہسپتال نہیں  جہاں کینسر کا   علاج ہو سکے .گزشتہ تین ماہ سے ضلع خضدار میں کینسر کے 58 واقعات کی تشخیص کی گئی ہے جن میں  اکثر  مریضوں کا  تعلق غریب  خاندانوں سے  ہیں۔ جنہیں   علاج کے  لیے  کافی مشکلات  کاسامنا کرنا پڑھ رہا ہے شہر میں  سہولیات نہ ہونے کے وجہ سے لوگ صوبے سے باہر جانے  پھر مجبور ہو گئیں ھیں۔ مالیاتی اخراجات  عوام  کی پہنچ سے دور ہیں اس حوالے سے حکومت بلوچستان کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے ۔