*خضدار میں شعبہ صحت کے بڑھتے ہوئے مسائل*
 تحریر :  جہانزیب قلندرانی

ضلع خضدار بلوچستان کا تیسرا بڑا شہر جو بلوچستان کے درمیانی حصے پر واقع جس کی آبادی آٹھ لاکھ پر مشتمل . ضلع خضدار کی نصف سے بھی زیادہ آبادی غربت کا شکار ہے اور عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ بنیادی سہولیات میں صحت کا شعبہ کافی متاثر کن ہے خضدار ڈویژنل ایڈ کوارٹر ہونے کے باوجود بھی بنیادی سہولیات سے محروم۔ خضدار میں میڈیکل کالج کی بعد اسپتال کو ٹیچنگ اسپتال کا بھی درجہ دیا گیا ہے لیکن پھر بھی اسٹاف میں کمی محسوس کی جارہی ہے اس جدید دور میں بھی سی ٹی اسکین ، ایم آر آئی اسکین اور دیگر مشنریوں سے ہونے والے ٹیسٹس کا نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے. اس کے ساتھ ساتھ ابھرتا ہوا ایک اور سنگین مسئلہ عمل کے دوران خواتین کی اموات میں اضافہ تشویش کی بات ہے . جس کی بنیادی وجہ اسپتال میں فیمیل سٹاف اور نرسز کا نہ ہونا ہے. زیادہ تر خواتین عمل کے دوران انتقال کرجاتی ہے جو اس اسپتال اور انتظامیہ کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے.خواتین ہمارے معاشرے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ان خواتین کو بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنا معاشرے کیلئے بہت بڑا نقصان ہے۔ ان عاملہ خواتین میں اکثریت کا تعلق غریب خاندانوں سے ہوتا ہے جن کو اگر سرکاری اسپتال میں ساری سہولیات فراہم نہ کی جائے تو وہ دوسرے پرائیوٹ ہسپتال میں اخراجات برداشت نہیں کر سکیں گے. اگر حکومت بلوچستان اور شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد نے مثبت اقدامات نہ اٹھائے تو آنے والے وقتوں میں ان جیسے اور مسائل ہمارے معاشرے میں پیدا ہونگی بھی جو ہمارے ضلع صوبہ اور ملک کیلئے المیہ ہوگا.