*خضدار کے  عوام شہید سکندر یونیورسٹی کو ضم کرنے  کی ناکام  کوشش پر  انصاف  کے منتظر* 

  *تحریر جانزیب قلندرانی*

 شہید سکندر یونیورسٹی نہ  صرف خضدار بلکہ پورے بلوچستان کے لئے ایک بہترین تعلیمی درسگاہ  اور بلوچستان کی  آنے  والی نسلوں کیلئے ایک اثاثے سے کم نہیں. جھالاوان کے نوجوان اسی امید پر  بیٹھے ہیں کہ شہید سکندر یونیورسٹی سٹی نا صرف  خضدار بلکہ پورے بلوچستان کیلئے ایک بہترین تعلیمی ذریعہ ثابت  ہوگا اور یہاں خضدار سمیت بلوچستان کے دور دراز علاقوں  سے نوجوان علم حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹی کا  رخ کرینگے اور یہاں سے تعلیم حاصل کرکے اپنے  ملک و قوم کا نام روشن کریں گے لیکن کچھ دنوں سے چلنے والی خبروں سے نوجوان  غم و غصہ کا شکار ہیں۔صوبہ بلوچستان جو تعلیمی حوالے سے  ہمیشہ پسماندہ جانا جاتا ہے   یہاں کے غریب طلباء  تعلیمی سہولیات  نہ ہونے کی وجہ سے صوبے سے باہر جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس کی بنیادی  وجہ یہاں  پر تعلیمی سہولیات کا  نا ہونا ہے.  یاد رہے یہ مثبت اقدام سابقہ وزیراعلی بلوچستان نواب ثناء اللہ خان زہری کی کاوشوں سے عمل میں آیا جو پورے بلوچستان خصوصا  جھالاوان اور خضدار کو ترقی کی طرف گامزن کرنا چاہتے ہیں۔ جو بلوچستان جھالاوان  اور خضدار  کے لئے ایک فخر کی بات ہے . یہ کوئی معمولی سی بات نہیں شہید  سکندر یونیورسٹی ہمارے آنے والی نسلوں کیلئے  ایک بہترین تحفہ سے کم نہیں۔ بلوچستان کے نوجوان  اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد جھالاوان کے سیاسی و سماجی معتبرین شہید سکندر یونیورسٹی  کو جھالاوان میڈیکل کالج میں ضم کرنے کی ناکام سازش کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں اور جھالاوان کے عوام  اور یہاں کے سیاسی و سماجی کارکنان سے اپیل کرتے ہیں کہ  اس سازش کے خلاف  اپنی آواز بلند کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو تعلیمی محرومی سے بچائیں